المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب النكاح— نکاح کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ التَّرْغِيبِ فِي النكاح باب: نکاح کی ترغیب اور اس کی اہمیت و فضیلت کا بیان۔
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، نَبَّأَ هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : اجْتَمَعَ نَفَرٌ ، فَقَالُوا : لَوْ بَعَثْنَا إِلَى أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلْنَاهُنَّ عَنْ أَخْلَاقِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . فَبَعَثُوا إِلَيْهِنَّ ، فَقُلْنَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي ، وَيَنَامُ ، وَيَصُومُ ، وَيُفْطِرُ ، وَيَنْكِحُ النِّسَاءَ .
قَالُوا : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ : أَقُومُ اللَّيْلَ وَلَا أَنَامُ ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : أَصُومُ النَّهَارَ وَلَا أُفْطِرُ ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : أَدَعُ النِّسَاءَ لَا آتِيهِنَّ ; فَإِنَّ فِيهِنَّ شُغْلًا .
فَاطَّلَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ذَلِكَ فَقَالَ : " مَا بَالُ رِجَالٍ يَتَحَسَّسُونَ عَلَى شَأْنِ نَبِيِّهِمْ ، فَلَمَّا أُخْبِرُوا بِهِ رَغِبُوا عَنْهُ ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ كَذَا ، وَبَعْضُهُمْ كَذَا ؟ " ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَكِنِّي أَنَامُ وَأَقُومُ ، وَأُفْطِرُ وَأَصُومُ ، وَأَنْكِحُ ; فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي ".امام حسن بصری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ چند افراد اکٹھے ہوئے اور آپس میں مشورہ کیا کہ اگر ہم نبی کریم ﷺ کی ازواجِ مطہرات کی جانب کسی کو بھیجیں تاکہ وہ آپ ﷺ کے اخلاقِ کریمانہ کے متعلق دریافت کرے (تو بہتر ہوگا)؛ چنانچہ انہوں نے قاصد بھیجا تو ازواجِ مطہرات نے جواب دیا کہ اللہ کے رسول ﷺ (رات کو) نماز بھی پڑھتے ہیں اور آرام بھی فرماتے ہیں، روزہ بھی رکھتے ہیں اور افطار بھی کرتے ہیں، اور آپ ﷺ نے نکاح بھی فرما رکھے ہیں۔
ان لوگوں نے یہ سن کر (قیاس کیا) کہ رسول اللہ ﷺ کی شان تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے متعلق ﴿مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ﴾ ”جو آپ کے پہلے اور پچھلے (تمام) گناہ ہیں“ (سورہ الفتح: ۲) کی مغفرت فرما دی ہے، اس پر ان میں سے ایک کہنے لگا: میں تو تمام رات قیام کروں گا اور کبھی نہیں سوؤں گا، دوسرے نے کہا: میں ہمیشہ روزہ رکھوں گا اور کبھی ناغہ نہیں کروں گا، جبکہ ایک اور نے کہا: میں عورتوں کو چھوڑ دوں گا اور ان کے قریب نہیں جاؤں گا کیونکہ وہ (عبادت سے) مشغول کر دیتی ہیں۔
جب نبی کریم ﷺ اس معاملے سے آگاہ ہوئے تو آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”ان لوگوں کا کیا حال ہے جو اپنے نبی کے احوال کی ٹوہ لیتے ہیں اور جب انہیں خبر دی جاتی ہے تو وہ اس سے بے رغبتی کا اظہار کرتے ہیں؟ ان میں سے کسی نے ایسا کہا اور کسی نے ویسا؟“ پھر رسول اللہ ﷺ نے اپنا اسوہ بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”لیکن میں سوتا بھی ہوں اور (نماز کے لیے) کھڑا بھی ہوتا ہوں، روزہ افطار بھی کرتا ہوں اور رکھتا بھی ہوں، اور میں نے عورتوں سے نکاح بھی کیے ہیں؛ یاد رکھو! جس نے میری سنت سے اعراض کیا، اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہے“۔
اس حدیثِ مبارکہ سے واضح ہوتا ہے کہ دینِ اسلام میں رہبانیت اور انتہا پسندی کی کوئی گنجائش نہیں، بلکہ زندگی کے تمام معاملات میں اعتدال اور سنتِ نبوی ﷺ کی اتباع ہی اصل مقصودِ مومن ہے۔