المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب النكاح— نکاح کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ التَّرْغِيبِ فِي النكاح باب: نکاح کی ترغیب اور اس کی اہمیت و فضیلت کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي أَشْيَاءَ يُؤْجَرُ فِيهَا الرَّجُلُ ، حَتَّى فِي غَشَيَانِ أَهْلِهِ ، فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، كَيْفَ وَهِيَ شَهْوَتُهُ يَقْضِيهَا ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَرَأَيْتُمْ لَوْ كَانَ حَرَامٌ ، أَلَيْسَ كَانَ يُؤْزَرُ ؟ " ، قَالُوا : بَلَى ، قَالَ : " فَكَذَلِكَ يُؤْجَرُ ".سیدنا ابوالبختری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان مختلف امور کا تذکرہ فرمایا جن کے بدلے انسان کو ثواب عطا کیا جاتا ہے، یہاں تک کہ اپنی اہلیہ سے قربت اختیار کرنے پر بھی اسے اجر ملتا ہے۔ دریافت کیا گیا: اے اللہ کے رسول! یہ کیسے ہو سکتا ہے جبکہ وہ تو اس عمل سے محض اپنی نفسانی خواہش کی تکمیل کرتا ہے؟ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”تمہارا کیا خیال ہے، اگر وہ یہی فعل حرام طریقے سے انجام دیتا تو کیا اسے گناہ نہ ہوتا؟“ صحابہ کرام نے عرض کیا: جی ہاں، ضرور ہوتا۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تو اسی طرح (جائز طریقے سے خواہش پوری کرنے پر) اسے اجر دیا جاتا ہے“۔
اس حدیثِ مبارکہ سے یہ عظیم قاعدہ مستنبط ہوتا ہے کہ جب انسان حلال کے ذریعے حرام سے بچنے اور پاکدامنی کی نیت کرتا ہے تو اس کے طبعی اور دنیوی امور بھی اجر و ثواب والی عبادت میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔