المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب النكاح— نکاح کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ التَّرْغِيبِ فِي النكاح باب: نکاح کی ترغیب اور اس کی اہمیت و فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1640
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَنَا أَبُو بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ : قَالَ لِي ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ وَجْهِي : أَتَزَوَّجْتَ يَا ابْنَ جُبَيْرٍ ؟ قُلْتُ : لَا ، وَمَا أُرِيدُ ذَلِكَ يَوْمِي هَذَا ، قَالَ : " إِنَّهُ سَيَخْرُجُ مَا كَانَ فِي صُلْبِكَ مِنَ الْمُسْتَوْدَعِينَ " .
صَحِيحٌ مَوْقُوفٌ ، وَبَعْضُهُ فِي الصَّحِيحِ.ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے دریافت فرمایا—اور یہ اس وقت کی بات ہے جب ابھی میرے چہرے پر داڑھی کے بال بھی نہیں نکلے تھے—: ”اے ابن جبیر! کیا تم نے شادی کر لی ہے؟“ میں نے عرض کیا: جی نہیں، اور فی الحال میرا ایسا کوئی ارادہ بھی نہیں ہے، تو انہوں نے فرمایا: ”یقیناً تمہاری پشت میں (اللہ کی طرف سے) جو امانتیں رکھی گئی ہیں، وہ عنقریب (اولاد کی صورت میں) ظاہر ہو کر رہیں گی۔“
یہ روایت سنداً صحیح موقوف ہے اور اس کا کچھ حصہ کتبِ صحیح میں بھی موجود ہے۔