المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب النكاح— نکاح کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ التَّرْغِيبِ فِي النكاح باب: نکاح کی ترغیب اور اس کی اہمیت و فضیلت کا بیان۔
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ قَالَ : إِنَّ عُتْبَةَ بْنَ فَرْقَدٍ عَرَضَ عَلَى ابْنِهِ التَّزْوِيجَ فَأَبَى ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لِعُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : " أَلَيْسَ قَدْ تَزَوَّجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَدْ تَزَوَّجَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، وَتَزَوَّجَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، وَعِنْدَنَا مِنْهُنَّ مَا عِنْدَنَا ؟ " . فَقَالَ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، مَنْ لَهُ عَمَلٌ مِثْلُ عَمَلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، وَمِثْلُ عَمَلِكَ ؟ فَلَمَّا قَالَ : مِثْلُ عَمَلِكَ - قَالَ : " كُفَّ ; إِنْ شِئْتَ فَتَزَوَّجْ ، وَإِنْ شِئْتَ فَلَا ".امام ابن سیرین رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عتبہ بن فرقد رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے کے سامنے شادی کی پیشکش رکھی مگر اس نے انکار کر دیا، پھر انہوں نے اس بات کا تذکرہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے کیا تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اس نوجوان سے فرمایا: ”کیا رسول اللہ ﷺ نے نکاح نہیں فرمایا تھا؟ اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی نکاح کیا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بھی نکاح کیا، اور ہمارے پاس بھی ان (ازواج) میں سے وہی کچھ ہے جو ہمارے پاس ہے؟“ اس پر نوجوان نے عرض کی: اے امیر المومنین! بھلا کس کے اعمال رسول اللہ ﷺ، سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے اعمال جیسے ہو سکتے ہیں، اور کس کے عمل آپ کے عمل کی طرح (بلند) ہو سکتے ہیں؟ پس جب اس نے یہ کہا کہ ”آپ کے عمل کی مانند“ تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”بس خاموش ہو جاؤ؛ اب اگر تم چاہو تو شادی کر لو اور اگر چاہو تو نہ کرو۔“