❮
❯
حدیث نمبر: 163
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْخِرِّيتِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، " أَنَّهُ كَانَ لَا يَرَى بَأْسًا أَنْ يَغْتَسِلَ الرَّجُلُ مِنَ الْجَنَابَةِ ثُمَّ يَسْتَدْفِئَ بِامْرَأَتِهِ قَبْلَ أَنْ تَغْتَسِلَ ، أَوْ تَغْتَسِلَ الْمَرْأَةُ قَبْلَ الرَّجُلِ فَتَسْتَدْفِئَ بِهِ " .
ترجمہ

سیدنا عکرمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”وہ اس بات میں کوئی حرج یا شرعی تنگی محسوس نہیں کرتے تھے کہ کوئی مرد جنابت کا غسل کرنے کے بعد (سردی کی وجہ سے) اپنی ایسی اہلیہ کے بدن سے لگ کر حرارت و گرمائش حاصل کرے جس نے ابھی غسل نہ کیا ہو، یا عورت پہلے غسل کر لے اور پھر اپنے ایسے شوہر کے جسم سے چمٹ کر گرمی حاصل کرے جس نے تاحال غسل نہ کیا ہو۔“
یہ اثر سندِ صحیح سے ثابت ہے جس سے یہ فقہی مسئلہ واضح ہوتا ہے کہ غسل کرنے والے کا ایسے شخص کے بدن سے مس ہونا جس پر ابھی غسل واجب ہو، شرعاً جائز ہے اور طہارت پر اثر انداز نہیں ہوتا۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الغسل / حدیث: 163
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح، موقوف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :موقوف، إسناده صحيح. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»