المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الغسل— غسل کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ مَنِ اسْتَدْفَأَ بِامْرَأَتِهِ بَعْدَ الْغُسْلِ باب: اس شخص کا بیان جس نے غسل کے بعد اپنی اہلیہ سے حرارت حاصل کی۔
حدیث نمبر: 164
حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، قَالَ : قَالَ عَامِرٌ لِإِبْرَاهِيمَ : " مَا تَقُولُ فِي الَّذِي يَغْتَسِلُ مِنَ الْجَنَابَةِ ثُمَّ يَسْتَدْفِئُ بِامْرَأَتِهِ ؟ قَالَ : لَا أَدْرِي ، قَالَ : أَفَلَا أُنَبِّئُكَ عَنْ صَدِيقِكَ عَلْقَمَةَ أَنَّهُ كَانَ لَا يَرَى بِهِ بَأْسًا " .ترجمہ
عامر بن شراحیل شعبی سے روایت ہے کہ انہوں نے ابراہیم نخعی سے دریافت کیا: ”آپ اس شخص کے متعلق کیا فرماتے ہیں جو غسلِ جنابت کرنے کے بعد (سردی کی شدت کی وجہ سے) اپنی بیوی کے جسم سے لپٹ کر حرارت حاصل کرتا ہے؟“ ابراہیم نخعی نے جواب دیا: ”میں اس بارے میں کچھ نہیں جانتا،“ اس پر عامر نے کہا: ”کیا میں آپ کو آپ کے مخلص دوست علقمہ بن قیس کے متعلق نہ بتاؤں کہ وہ اس عمل میں کوئی حرج اور شرعی مضائقہ محسوس نہیں کرتے تھے؟“
[أخرجه ابن أبي شيبة في المصنف: 179، وإسناده صحيح]