❮
❯
حدیث نمبر: 1623
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي إِسْمَاعِيلَ ، نَبَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ مَسْعُودٍ الْكِنْدِيِّ قَالَ : إِنَّ عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، إِنِّي لَا أُحِبُّ أَنْ أَنْظُرَ إِلَى عَوْرَةِ امْرَأَتِي ، وَلَا تَرَى ذَلِكَ مِنِّي ! فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَلِمَ ذَاكَ ؟ إِنَّ اللهَ تَعَالَى جَعَلَكَ لِبَاسًا لَهَا ، وَأَنَا أَرَى ذَلِكَ مِنْ أَهْلِي ، وَيَرَوْنَهُ مِنِّي " . قَالَ : فَمَنْ يَعْدِلُ بِكَ يَا رَسُولَ اللهِ ؟ ثُمَّ وَلَّى ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ ابْنَ مَظْعُونٍ لَحَيِيٌّ سِتِّيرٌ "
ترجمہ

سعد بن مسعود الکندی سے روایت ہے کہ سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کی: یا رسول اللہ! میں یہ بات ناپسند کرتا ہوں کہ اپنی زوجہ کے ستر (پوشیدہ اعضاء) کو دیکھوں اور نہ ہی یہ چاہتا ہوں کہ وہ میرا ستر دیکھے؛ اس پر رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم ایسا کیوں کہتے ہو؟ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس کا لباس بنایا ہے، جیسا کہ فرمانِ الٰہی ہے: ﴿هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَأَنتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ﴾ (سورۃ البقرہ: 187)، اور میں اپنی ازواج کا ستر دیکھتا ہوں اور وہ میرا ستر دیکھتی ہیں“۔ انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! بھلا آپ کا مقابلہ کون کر سکتا ہے؟ پھر جب وہ پیٹھ پھیر کر رخصت ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نے ان کی مدح کرتے ہوئے فرمایا: ”یقیناً ابنِ مظعون حد درجہ حیا دار اور خود کو ڈھانپ کر رکھنے والے انسان ہیں“۔
اس مقام پر ائمہ و شارحین بیان کرتے ہیں کہ زوجین کے مابین شرعاً ستر پوشی کی کوئی پابندی نہیں ہے، تاہم حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کا یہ جذبہ ان کی غیر معمولی فطری حیا اور زہد و تقویٰ کا مظہر تھا جسے نبی کریم ﷺ نے ایک انفرادی فضیلت کے طور پر سراہا۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب النكاح / حدیث: 1623
درجۂ حدیث محدثین: إسناده مرسل
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :مرسل. »
«أخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 8318»