المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب النكاح— نکاح کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ النَّهْيِ عَنْ الجماع نصف الشَّهْرِ وغرته والأمر بالتستر عِنْدَ الجماع وَجَوَازِ رُؤْيَةِ الْفَرْجِ باب: قمری مہینے کے آغاز اور وسط میں جماع کی ممانعت، جماع کے وقت پردہ کرنے اور شرمگاہ دیکھنے کے جواز کا بیان۔
حدیث نمبر: 1622
قَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ وَاقِدٍ ، نَبَا حَمَّادُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنِ السَّرِيِّ بْنِ خَالِدِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا عَلِيُّ ، لَا تُجَامِعِ امْرَأَتَكَ نِصْفَ الشَّهْرِ ، وَلَا عِنْدَ غُرَّةِ الْهِلَالِ ، أَمَا رَأَيْتَ الْمَجَانِينَ يُصْرَعُونَ فِيهَا كَثِيرًا . ؟ "ترجمہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے ارشاد فرمایا: ”اے علی! اپنی اہلیہ سے مہینے کے درمیان میں اور نئے چاند کے طلوع ہونے کے وقت ہمبستری نہ کرو، کیا تم نے دیکھا نہیں کہ ان ایام میں کثرت سے دیوانوں کو مرگی اور جنون کے دورے پڑتے ہیں؟“
اس روایت میں جماع کے وقت پردہ پوشی اختیار کرنے کے حکم اور شرمگاہ کو دیکھنے کے جواز کا تذکرہ پایا جاتا ہے۔