❮
❯
حدیث نمبر: 1621
قَالَ عَبْدٌ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْأَشْعَثِ ، بَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلِ بْنِ عِيَاضٍ ، ثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنِي بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ الْحَضْرَمِيِّ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا مَعَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَقَالَ لَهَا : " يَا عَائِشَةُ ، أَطْعِمِينَا " ، قَالَتْ : وَاللهِ مَا عِنْدَنَا طَعَامٌ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَطْعِمِينَا " فَقَالَتْ : وَاللهِ مَا عِنْدَنَا طَعَامٌ . فَقَالَ : " أَطْعِمِينَا " فَقَالَتْ : وَاللهِ مَا عِنْدَنَا طَعَامٌ .
فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، إِنَّ الْمَرْأَةَ الْمُؤْمِنَةَ لَا تَحْلِفُ عَلَى الشَّيْءِ إِنَّهُ مَا هُوَ عِنْدَهَا وَهُوَ عِنْدَهَا ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَمَا يُدْرِيكَ أَمُؤْمِنَةٌ هِيَ أَمْ لَا ؟ إِنَّ مَثَلَ الْمَرْأَةِ الْمُؤْمِنَةِ مِنَ النِّسَاءِ كَمَثَلِ الْغُرَابِ الْأَعْصَمِ فِي الْغِرْبَانِ ، وَإِنَّ النَّارَ خُلِقَتْ لِلسُّفَهَاءِ ، وَإِنَّ النِّسَاءَ مِنَ السُّفَهَاءِ ، إِلَّا صَاحِبَةَ الْمُشْطِ وَالْمِصْبَاحِ ".
ترجمہ

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ہمراہ ان کے ہاں تشریف لائے اور فرمایا: ”اے عائشہ! ہمیں کھانا کھلاؤ“، انہوں نے عرض کی: اللہ کی قسم! ہمارے پاس کوئی کھانا نہیں ہے، آپ ﷺ نے دوبارہ ارشاد فرمایا: ”ہمیں کھانا کھلاؤ“، انہوں نے پھر عرض کی: خدا کی قسم! ہمارے پاس کھانا میسر نہیں ہے، آپ ﷺ نے تیسری بار فرمایا: ”ہمیں کھانا کھلاؤ“، انہوں نے پھر وہی جواب دیا کہ اللہ کی قسم! ہمارے پاس کچھ نہیں ہے۔ اس پر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ایک مومنہ خاتون ایسی بات پر ہرگز قسم نہیں کھاتی کہ کوئی چیز اس کے پاس نہیں ہے جبکہ وہ موجود ہو، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تمہیں کیا خبر کہ وہ کامل مومنہ ہے یا نہیں؟ بیشک تمام عورتوں میں ایک حقیقی مومنہ عورت کی مثال کووں کے غول میں اس سفید پاؤں والے کوے کی طرح ہے جو نہایت نایاب ہوتا ہے، اور یقیناً آگ کم عقلوں کے لیے پیدا کی گئی ہے، اور عورتیں بھی کم عقلوں میں سے ہیں، سوائے اس کے جو کنگھی اور چراغ والی ہو۔“
شارحینِ حدیث کے نزدیک 'غرابِ اعصم' اس نایاب کوے کو کہتے ہیں جس کے پاؤں یا پر سفید ہوں، یہ اس بات کا استعارہ ہے کہ کامل ایمان اور اعلیٰ اوصاف والی خواتین بہت قلیل ہیں، جبکہ 'کنگھی اور چراغ والی' سے مراد وہ صالحہ خاتون ہے جو اپنے شوہر کے لیے زینت اختیار کرے اور گھر کی ذمہ داریوں کو تندہی سے نبھائے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب النكاح / حدیث: 1621
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف. »
«أخرجه المنتخب من مسند عبد بن حميد برقم: 1528»