المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب النكاح— نکاح کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ عرض الْمَرْأَةِ عَلَى الرجل الصالح باب: کسی صالح اور نیک مرد کے سامنے (نکاح کے لیے) عورت کی پیشکش کا بیان۔
( 66 ) حَدِيثُ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللهِ ، ابْنَةٌ لِي كَذَا وَكَذَا ، فَذَكَرَتْ مِنْ حُسْنِهَا ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَدْ قَبِلْتُهَا " .
سَيَأْتِي إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى فِي كِتَابِ كَفَّارَاتِ الْمَرَضِ .
( 67 ) وَحَدِيثُ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا : أَنَّ أَعْرَابِيًّا كَانَتْ مَعَهُ ابْنَةٌ حَسْنَاءُ ، فَجَعَلَ يَعْرِضُهَا لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
تَقَدَّمَ فِي أَحْكَامِ النَّظَرِ .
1620 \ 1 - وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ بَكْرٍ ، عَنْ سِنَانِ بْنِ رَبِيعَةَ الْبَاهِلِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ امْرَأَةً أَتَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللهِ ، بِنْتٌ لِي كَذَا وَكَذَا ... فَذَكَرَتْ مِنْ حُسْنِهَا وَجَمَالِهَا ، فَأُوثِرُكَ بِهَا . قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَدْ قَبِلْتُهَا . فَلَمْ تَزَلْ تَمْدَحُهَا حَتَّى ذَكَرَتْ أَنَّهَا لَمْ تُصْدَعْ وَلَمْ تَشْتَكِ شَيْئًا قَطُّ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا حَاجَةَ لِي فِي ابْنَتِكِ .
1620 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ بِهَذَا .سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک خاتون نے بارگاہِ نبوی میں حاضر ہو کر عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میری ایک بیٹی ہے جو ایسی اور ایسی صفات کی حامل ہے، اور انہوں نے اس کے حسن و جمال کا تذکرہ کیا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”میں نے اسے قبول کر لیا۔“
یہ روایت ان شاء اللہ تعالیٰ عنقریب 'کتاب کفاراتِ مرض' میں آئے گی
نیز سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی کے ہمراہ اس کی ایک خوبصورت صاحبزادی تھی، وہ اسے رسول اللہ ﷺ کے سامنے (نکاح کی غرض سے) پیش کرنے لگا
یہ تذکرہ احکامِ نظر کے بیان میں پہلے گزر چکا ہے
امام ابو بکر نے اپنی سند کے ساتھ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ ایک خاتون رسول اللہ ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئیں اور عرض گزار ہوئیں: اے اللہ کے رسول! میری ایک بیٹی ہے جس میں ایسی ایسی خوبیاں ہیں، پھر انہوں نے اس کے حسن و جمال کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ میں اسے آپ کی زوجیت کے لیے پیش کرتی ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے اسے قبول کر لیا۔“ وہ مسلسل اپنی بیٹی کی تعریفیں کرتی رہیں یہاں تک کہ انہوں نے یہ بھی ذکر کر دیا کہ اسے کبھی سر میں درد ہوا اور نہ ہی اس نے زندگی میں کبھی کسی تکلیف کی شکایت کی، یہ سن کر رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”مجھے تمہاری بیٹی کی کوئی ضرورت نہیں۔“
امام ابو یعلیٰ نے بھی اپنی سند سے اسے اسی طرح روایت کیا ہے۔