المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب النكاح— نکاح کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ العزل باب: عزل (یعنی بوقتِ انزال عضوِ تناسل کو شرمگاہ سے باہر نکال لینے) کا بیان۔
أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، ثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ سُلَيْمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " إِنْ كَانَ قَالَ فِيهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا فَهُوَ كَمَا قَالَ ، يَعْنِي الْعَزْلَ . وَأَنَا لَا أَرَى بِهِ بَأْسًا ، زَرْعُكَ ; إِنْ شِئْتَ أَعْطَشْتَ ، وَإِنْ شِئْتَ سَقَيْتَ ".سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے عزل (یعنی صحبت کے دوران انزال باہر کرنا) کے متعلق فرمایا: ”اگر اس بارے میں رسول اللہ ﷺ نے کوئی بات ارشاد فرمائی ہے تو وہ برحق اور ویسا ہی ہے جیسا آپ ﷺ نے فرمایا“، اور میں بذاتِ خود اس عمل میں کوئی قباحت محسوس نہیں کرتا، یہ تمہاری ہی کھیتی ہے؛ چاہے تو اسے تشنہ لب (پیاسا) رکھو اور چاہے تو اسے سیراب کر دو
اس اثر سے ثابت ہوتا ہے کہ عزل کے معاملے میں شرعی وسعت موجود ہے اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس مسئلے کو ایک بلیغ زرعی مثال سے واضح فرمایا کہ جس طرح کسان اپنی زمین کو سیراب کرنے یا نہ کرنے کا اختیار رکھتا ہے، اسی طرح نطفہ ٹھکانے لگانے یا نہ لگانے کا معاملہ بھی شوہر کے اختیار میں ہے۔