المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب النكاح— نکاح کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ العزل باب: عزل (یعنی بوقتِ انزال عضوِ تناسل کو شرمگاہ سے باہر نکال لینے) کا بیان۔
حدیث نمبر: 1611
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، عَنْ مِنْدَلِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي الْمُغِيرَةِ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ ابْنِ أَبِي الْهُذَيْلِ ، عَنْ جَرِيرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، مَا خَلَصْتُ إِلَيْكَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ إِلَّا بِفَتِيَّةٍ ، وَأَنَا أَعْزِلُ عَنْهَا ، أُرِيدُ بِهَا السُّوقَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " جَاءَهَا مَا قُدِّرَ ".ترجمہ
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا اور عرض کی: "یا رسول اللہ! میں مشرکین کے قبضے سے بمشکل جان چھڑا کر آپ تک پہنچا ہوں، میرے پاس ایک نوجوان لونڈی ہے جس سے میں عزل (اولاد سے بچنے کا مخصوص طریقہ) اختیار کرتا ہوں کیونکہ میرا ارادہ اسے بازار میں فروخت کرنے کا ہے؟" تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اس کے حق میں جو مقدر کر دیا گیا ہے، وہ اسے پہنچ کر رہے گا۔“