المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب النكاح— نکاح کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ العزل باب: عزل (یعنی بوقتِ انزال عضوِ تناسل کو شرمگاہ سے باہر نکال لینے) کا بیان۔
حدیث نمبر: 1609
إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، ثَنَا عِيسَى بْنُ سِنَانٍ أَبُو سِنَانٍ ، ثَنَا يَعْلَى بْنُ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : إِنَّ أَوَّلَ مَنْ عَزَلَ نَفَرٌ مِنَ الْأَنْصَارِ ، فَأَتَوُا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : إِنَّ نَفَرًا مِنَ الْأَنْصَارِ يَعْزِلُونَ ، فَفَزِعَ وَقَالَ : " إِنَّ النَّفْسَ الْمَخْلُوقَةَ لَكَائِنَةٌ " ، فَمَا أَمَرَ وَلَا نَهَى .ترجمہ
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سب سے پہلے جس گروہ نے عزل (مانع حمل کا ایک قدیم طریقہ) اختیار کیا وہ انصار کے کچھ لوگ تھے، چنانچہ وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ انصار کے کچھ لوگ عزل کرتے ہیں، یہ سن کر آپ ﷺ (اس معاملے کی اہمیت کے پیشِ نظر) فکرمند ہوئے اور ارشاد فرمایا: ”بلاشبہ جس جان کی تخلیق مقدر ہو چکی ہے وہ یقیناً وجود میں آ کر رہے گی“، اس کے بعد آپ ﷺ نے نہ تو اس عمل کا حکم دیا اور نہ ہی اس سے منع فرمایا۔