المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب النكاح— نکاح کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ نُهِيَ الْمَرْأَةِ عَنْ االتباطؤ إِذَا استدعاها زوجها باب: شوہر کے بلانے پر عورت کے تاخیر کرنے کی ممانعت کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْحَارِثِ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ الْكُوفِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْعَلَاءِ الرَّازِيِّ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : " لَعَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُسَوِّفَةَ وَالْمُفَسِّلَةَ ; فَأَمَّا الْمُسَوِّفَةُ فَالَّتِي إِذَا أَرَادَهَا زَوْجُهَا قَالَتْ : سَوْفَ الْآنَ . وَأَمَّا الْمُفَسِّلَةُ فَالَّتِي إِذَا أَرَادَهَا زَوْجُهَا قَالَتْ : إِنِّي حَائِضٌ ، وَلَيْسَتْ بِحَائِضٍ ".سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے ایسی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے جو 'مسوفہ' اور 'مفصلہ' ہوں؛ پس 'مسوفہ' وہ عورت ہے کہ جب اس کا شوہر اسے (قربت کے لیے) بلائے تو وہ کہے: 'بس ابھی آتی ہوں' (اور ٹال مٹول کرتی رہے)، جبکہ 'مفصلہ' وہ عورت ہے کہ جب اس کا شوہر اس سے ازدواجی تعلق کا ارادہ کرے تو وہ (جھوٹا عذر پیش کرتے ہوئے) کہہ دے: 'میں حیض سے ہوں'، حالانکہ وہ حقیقت میں حیض کی حالت میں نہ ہو۔“
اگرچہ اس روایت کی سند میں یحییٰ بن العلاء الرازی کی موجودگی کی بنا پر ائمہِ حدیث نے اسے ضعیف قرار دیا ہے، لیکن شوہر کی جائز طلب پر ٹال مٹول کرنا اور کذب بیانی سے کام لینا اخلاقی و شرعی اعتبار سے سخت ناپسندیدہ عمل ہے۔