المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب النكاح— نکاح کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ نُهِيَ الْمَرْأَةِ عَنْ االتباطؤ إِذَا استدعاها زوجها باب: شوہر کے بلانے پر عورت کے تاخیر کرنے کی ممانعت کا بیان۔
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ الْجَزَرِيُّ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، رَفَعَ الْحَدِيثَ : " لَعَنَ اللهُ الْمُتَسَوِّفَاتِ " ؟ قِيلَ : وَمَنِ الْمُتَسَوِّفَاتِ ؟ قِيلَ : " الرَّجُلُ يَدْعُو الْمَرْأَةَ إِلَى فِرَاشِهِ ، فَتَقُولُ : سَوْفَ ، سَوْفَ ، حَتَّى تَغْلِبَ عَيْنُهُ ".سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے ٹال مٹول کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے“، دریافت کیا گیا کہ یہ ٹال مٹول کرنے والی عورتیں (المتسوفات) کون ہیں؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”یہ وہ عورت ہے جسے اس کا شوہر اپنے بستر پر بلائے اور وہ 'ابھی آتی ہوں، ابھی آتی ہوں' کہہ کر تاخیر کرتی رہے یہاں تک کہ شوہر کی آنکھ لگ جائے اور وہ سو جائے“۔
اس حدیث مبارکہ میں شوہر کے جائز حقوق کی ادائیگی میں بلاوجہ سستی اور ٹال مٹول کرنے والی عورت کے لیے سخت وعید بیان کی گئی ہے تاکہ خانگی زندگی میں کسی قسم کی تلخی یا بے راہ روی پیدا نہ ہو۔