المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب النكاح— نکاح کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ استئمار النساء فِي أنفسهن وإمضاء تزويج الأب ولو لَمْ يؤامرها باب: نکاح میں عورتوں سے اجازت لینے اور والد کے کیے ہوئے نکاح کے نافذ ہونے کا بیان، اگرچہ اس نے اجازت نہ لی ہو۔
حدیث نمبر: 1583
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ هِشَامِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللهِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ مُهَاجِرٍ أَوْ مُهَاجِرِ بْنِ عِكْرِمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَقَّ بَيْنَ جَارِيَةٍ بِكْرٍ وَبَيْنَ زَوْجِهَا ، زَوَّجَهَا أَبُوهَا وَهِيَ كَارِهَةٌ ، قَالَ : وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا زَوَّجَ أَحَدًا مِنْ بَنَاتِهِ أَتَى خِدْرَهَا وَقَالَ : " إِنَّ فُلَانًا يَذْكُرُ فُلَانَةً ".ترجمہ
سیدنا عبد اللہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ”بے شک رسول اللہ ﷺ نے ایک کنواری لڑکی اور اس کے شوہر کے درمیان علیحدگی کروا دی تھی کیونکہ اس کے والد نے اس کی ناپسندیدگی کے عالم میں اس کا نکاح کر دیا تھا،“ اور راوی بیان کرتے ہیں کہ ”رسول اللہ ﷺ کا یہ مبارک معمول تھا کہ جب اپنی صاحبزادیوں میں سے کسی کا نکاح کرنا چاہتے تو ان کے پردے کے پاس تشریف لاتے اور فرماتے: ”فلاں شخص، فلاں (صاحبزادی) کا تذکرہ کر رہا ہے (یعنی نکاح کا پیغام دے رہا ہے)۔““