❮
❯
حدیث نمبر: 1570
وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، أَنَّ خَالَتَهُ أَخْبَرَتْهُ ، عَنِ امْرَأَةٍ وَهِيَ مُصَدَّقَةٌ ، قَالَتْ : بَيْنَمَا أَبِي فِي غَزَاةٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ قَدْ رَمِضُوا ، فَقَالَ رَجُلٌ : مَنْ يُعْطِينِي نَعْلَيْهِ وَأُنْكِحُهُ أَوَّلَ ابْنَةٍ تَلِدُ لِي ؟ فَخَلَعَ أَبِي نَعْلَيْهِ فَأَلْقَاهُمَا إِلَيْهِ ، فَوُلِدَ لِلرَّجُلِ جَارِيَةٌ فَبَلَغَتْ ، فَقَالَ أَبِي : اجْمَعْ إِلَيَّ أَهْلِي ، فَقَالَ : هَلُمَّ الصَّدَاقَ ، فَقَالَ : وَاللهِ إِنِّي لَا أَزِيدُكَ عَلَى مَا أَعْطَيْتُكَ ، لِلنَّعْلَيْنِ .
فَقَالَ : آللهِ ، لَا أُعْطِيكَهَا إِلَّا بِصَدَاقٍ . فَأَتَى أَبِي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ : " أَلَا أُخْبِرُكَ بِمَا هُوَ خَيْرٌ مِنْ ذَلِكَ ؟ تَدَعُهَا فَلَا تَحْنَثُ ، وَلَا تُحْنِثُ صَاحِبَكَ " . فَتَرَكَهَا أَبِي .
قُلْتُ : أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ إِلَى قَوْلِهِ : فَبَلَغَتْ . ثُمَّ أَحَالَ بَقِيَّتَهُ عَلَى حَدِيثِ مَيْمُونَةَ بِنْتِ كَرْدَمٍ .
ترجمہ

سیدہ (ایک خاتون صحابیہ جن کی سچائی کی تصدیق کی جاتی تھی) سے روایت ہے، وہ فرماتی ہیں کہ ”میرے والد زمانۂ جاہلیت کے ایک غزوے میں شریک تھے جہاں زمین کی شدید تپش کی وجہ سے لوگوں کے پاؤں جھلس رہے تھے، تب ایک شخص نے پکار کر کہا: کون ہے جو مجھے اپنے جوتے دے دے اور میں اس کے عوض اپنی پہلی پیدا ہونے والی بیٹی کا نکاح اس سے کر دوں گا؟ میرے والد نے اپنے جوتے اتار کر اس کی طرف پھینک دیے، پھر اس شخص کے ہاں بیٹی پیدا ہوئی اور جب وہ سنِ بلوغت کو پہنچی تو میرے والد نے مطالبہ کیا کہ میری اہلیہ کو میرے حوالے کرو، اس شخص نے کہا کہ اس کا مہر لاؤ، میرے والد نے جواب دیا کہ اللہ کی قسم! میں ان جوتوں کے علاوہ مزید کچھ نہیں دوں گا۔ اس شخص نے کہا: اللہ کی قسم! میں مہر کے بغیر اسے تمہارے حوالے نہیں کروں گا۔ تب میرے والد رسول اللہ ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے اور اس کے متعلق سوال کیا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”کیا میں تمہیں اس سے بہتر بات نہ بتاؤں؟ تم اسے چھوڑ دو، اس طرح نہ تم اپنی قسم توڑو گے اور نہ ہی اپنے ساتھی کو قسم توڑنے والا بناؤ گے۔“ چنانچہ میرے والد نے اس کا ارادہ ترک کر دیا۔“ امام ابو داؤد رحمہ اللہ نے اس روایت کو اسی طریق سے لفظ «فَبَلَغَتْ» تک روایت کیا ہے اور پھر بقیہ متن کے لیے سیدہ میمونہ بنت کر دم رضی اللہ عنہا کی حدیث کا حوالہ دیا ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب النكاح / حدیث: 1570
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف. »
«أخرجه السنن الكبرى للبيهقي برقم: 13937، وأخرجه مصنف عبد الرزاق برقم: 10418»