المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الوصايا— وصیتوں کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ ميراث الولاء وَمَنْ أسلم عَلَى يده رجل باب: ولاء کی وراثت اور اس شخص کی میراث کا بیان جس کے ہاتھ پر کوئی آدمی اسلام قبول کر لے۔
إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، ثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنِ الْأَجْلَحِ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ ، قَالَ : اخْتَصَمَ عَلِيٌّ وَالزُّبَيْرُ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي مَوَالِي صَفِيَّةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : عَمَّتِي ، وَأَنَا أَعْقِلُ عَنْهَا وَأَرِثُهَا ، وَقَالَ الزُّبَيْرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : أُمِّي وَأَنَا أَرِثُهَا . فَقَالَ عُمَرُ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا : " أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَعَلَ الْوَلَاءَ تَبَعًا لِلْمِيرَاثِ . ؟ "
1541 \ 2 - أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، نَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنِ الْأَجْلَحِ ، عَنِ الْحَكَمِ مِثْلَهُ ، وَقَالَ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَعَلَ الْوَلَاءَ تَبَعًا لِلْمِيرَاثِ ؟ فَقَضَى بِهِ لِلزُّبَيْرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ .حکم بن عتیبہ سے روایت ہے کہ سیدنا علی اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہما نے سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلاموں کے حقِ ولاء کے متعلق سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں ایک مقدمہ پیش کیا، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”وہ میری پھوپھی ہیں، میں ہی ان کی طرف سے دیت ادا کرنے کا ذمہ دار اور ان کا وارث ہوں“، جبکہ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”وہ میری والدہ ہیں اور میں ہی ان کا وارث ہوں“، اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے دریافت فرمایا: ”کیا آپ کو علم نہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ولاء کو میراث کے تابع قرار دیا ہے؟“، چنانچہ انہوں نے اس کا فیصلہ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کے حق میں فرما دیا۔