المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الوصايا— وصیتوں کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الكلالة باب: کلالہ کا بیان (یعنی اس میت کی وراثت کے احکام و مسائل کا تذکرہ جس کے ورثاء میں نہ اس کے والدین (اصول) ہوں اور نہ ہی اس کی اولاد (فروع) موجود ہو)۔
حدیث نمبر: 1540
وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ مُرَّةَ يَقُولُ فِي الْكَلَالَةِ ، قُلْتُ لِمُرَّةَ : وَمَنْ يَشُكُّ فِي الْكَلَالَةِ ؟ هُوَ مَا دُونَ الْوَلَدِ وَالْوَالِدِ . قَالَ : " إِنَّهُمْ يَشُكُّونَ فِي الْوَلَدِ ".ترجمہ
عمرو بن مرہ سے روایت ہے کہ انہوں نے مرہ کو کلالہ کے متعلق فرماتے ہوئے سنا، میں نے مرہ سے عرض کیا: ”کلالہ کے بارے میں بھلا کسے شک ہو سکتا ہے؟ اس سے مراد تو اولاد اور والد کے سوا (دیگر ورثاء) ہیں“، تو انہوں نے فرمایا: ”بیشک وہ لوگ اولاد کے معاملے میں بھی شک کرتے ہیں“۔