المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الوصايا— وصیتوں کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الكلالة باب: کلالہ کا بیان (یعنی اس میت کی وراثت کے احکام و مسائل کا تذکرہ جس کے ورثاء میں نہ اس کے والدین (اصول) ہوں اور نہ ہی اس کی اولاد (فروع) موجود ہو)۔
حدیث نمبر: 1539
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، ثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ زُهَيْرٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يَرِثُ الرَّجُلُ أَخَاهُ لِأَبِيهِ وَأُمِّهِ دُونَ إِخْوَتِهِ لِأَبِيهِ ".ترجمہ
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”آدمی اپنے اس بھائی کا وارث بنے گا جو اس کے ماں اور باپ دونوں کی طرف سے (حقیقی) ہو، نہ کہ ان بھائیوں کا جو محض باپ کی طرف سے (علاتی) ہوں۔“