المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الوصايا— وصیتوں کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الكلالة باب: کلالہ کا بیان (یعنی اس میت کی وراثت کے احکام و مسائل کا تذکرہ جس کے ورثاء میں نہ اس کے والدین (اصول) ہوں اور نہ ہی اس کی اولاد (فروع) موجود ہو)۔
حدیث نمبر: 1538
وَقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، ثَنَا مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، يَقُولُ : " إِنَّهُ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللهِ ، وَلَا فِي قَضَاءِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . وَسَيَجِدُونَهُ كُلُّهُمْ ، فَيَقُولُونَ : مَا هُوَ ؟ فَيَقُولُ : مِيرَاثُ الْأُخْتِ مَعَ الْبِنْتِ النِّصْفُ ، وَقَدْ قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ : إِنِ امْرُؤٌ هَلَكَ لَيْسَ لَهُ وَلَدٌ وَلَهُ أُخْتٌ ... الْآيَةَ .ترجمہ
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”بے شک یہ بات نہ تو کتاب اللہ میں ہے اور نہ ہی رسول اللہ ﷺ کے کسی فیصلے میں موجود ہے، اور عنقریب وہ سب اس کا سامنا کریں گے تو دریافت کریں گے کہ وہ کیا ہے؟ تو آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: (وہ مسئلہ یہ ہے کہ) بیٹی کی موجودگی میں بہن کا حصہ نصف مقرر کرنا، حالانکہ اللہ عزوجل کا ارشادِ گرامی ہے: ﴿إِنِ امْرُؤٌ هَلَكَ لَيْسَ لَهُ وَلَدٌ وَلَهُ أُخْتٌ﴾ ”اگر کوئی شخص فوت ہو جائے جس کی کوئی اولاد نہ ہو اور اس کی ایک بہن ہو... (آخرِ آیت تک)“۔“