المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الوصايا— وصیتوں کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الكلالة باب: کلالہ کا بیان (یعنی اس میت کی وراثت کے احکام و مسائل کا تذکرہ جس کے ورثاء میں نہ اس کے والدین (اصول) ہوں اور نہ ہی اس کی اولاد (فروع) موجود ہو)۔
إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، قَالَ : إِنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَيْفَ نُوَرِّثُ الْكَلَالَةَ ؟ فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَوَلَيْسَ قَدْ بَيَّنَ اللهُ تَعَالَى ذَلِكَ ؟ " ثُمَّ قَرَأَ : وَإِنْ كَانَ رَجُلٌ يُورَثُ كَلالَةً ، إِلَى آخِرِهَا . فَكَأَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَمْ يَفْهَمْ ، فَأَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى : يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلالَةِ ، إِلَى آخِرِ الْآيَةِ .
فَكَأَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَمْ يَفْهَمْ ، فَقَالَ لِحَفْصَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا : إِذَا رَأَيْتِ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طِيبَ نَفْسٍ فَاسْأَلِيهِ عَنْهَا ، فَرَأَتْ مِنْهُ طِيبَ نَفْسٍ فَسَأَلَتْهُ عَنْهَا فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَبُوكِ كَتَبَ لَكِ هَذَا ؟ مَا أُرَى أَبَاكِ يَعْلَمُهَا أَبَدًا " ، فَكَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ : مَا أُرَانِي أَعْلَمُهَا أَبَدًا ، وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قَالَ .
* صَحِيحٌ إِنْ كَانَ ابْنُ الْمُسَيِّبِ سَمِعَهُ مِنْ حَفْصَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا .سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ ہم کلالہ (وہ میت جس کے اصول و فروع یعنی باپ اور بیٹا نہ ہوں) کی میراث کیسے تقسیم کریں؟ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”کیا اللہ تعالیٰ نے اس کی وضاحت نہیں فرما دی؟“ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿وَإِنْ كَانَ رَجُلٌ يُورَثُ كَلالَةً﴾ ”اور اگر کسی ایسے مرد کی میراث تقسیم ہونی ہو جو کلالہ ہو“ آخر تک، لیکن گویا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس کی پوری تفصیل نہ سمجھ سکے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلالَةِ﴾ ”لوگ آپ سے فتویٰ مانگتے ہیں، آپ کہہ دیجیے کہ اللہ تمہیں کلالہ کے بارے میں حکم دیتا ہے“ آخر آیت تک، مگر پھر بھی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو پوری طرح شرحِ صدر نہ ہوا تو انہوں نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے کہا: ”جب تم رسول اللہ ﷺ کو خوش گوار موڈ میں دیکھو تو ان سے اس (کلالہ کے مسئلے) کے بارے میں دریافت کرنا۔“ چنانچہ انہوں نے جب آپ ﷺ کو خوش دلی کی حالت میں پایا تو ان سے اس بارے میں سوال کیا، جس پر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”کیا تمہارے والد نے تمہیں یہ پوچھنے کے لیے کہا ہے؟ میرا خیال ہے کہ تمہارے والد اسے کبھی (کما حقہ) نہیں سمجھ سکیں گے۔“ اس کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے: ”میرا بھی یہی خیال ہے کہ میں اسے کبھی نہیں جان پاؤں گا کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے میرے بارے میں جو فرمانا تھا وہ فرما دیا۔“ فنی اعتبار سے یہ روایت صحیح ہے بشرطیکہ سعید بن المسیب کا سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے سماع ثابت ہو۔