❮
❯
حدیث نمبر: 1535
مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ - هُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ - ثَنَا سَلَمَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ الْعَدَوِيِّ ، عَنْ أَبِي الدَّهْمَاءِ ، أَنَّهُ تَصَدَّقَ عَلَى أُمِّهِ بِجَارِيَةٍ لَهُ كَاتَبَهَا ، فَمَاتَتِ الْأُمُّ وَعَلَيْهَا بَقِيَّةٌ مِنْ مُكَاتَبَتِهَا ، قَالَ : فَسَأَلْتُ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - فَقَالَ : أَنْتَ تَرِثُ أُمَّكَ ، وَأَنْ تُقَسِّمَهَا فِي ذِي قَرَابَتِهَا أَحَبُّ إِلَيَّ .
صَحِيحٌ مَوْقُوفٌ .
ترجمہ

سیدنا ابوالدہماء سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی والدہ کو اپنی ایک ایسی لونڈی صدقہ میں دی تھی جس کے ساتھ انہوں نے مکاتبت کا معاہدہ کیا ہوا تھا، پھر ان کی والدہ کا انتقال ہو گیا جبکہ اس لونڈی کے ذمے مکاتبت کی کچھ رقم ابھی باقی تھی، وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے اس مسئلے کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے ارشاد فرمایا: ”تم اپنی والدہ کے وارث ہو گے، لیکن یہ کہ تم اس مال کو ان کے رشتہ داروں میں تقسیم کر دو تو یہ عمل مجھے زیادہ پسند ہے۔“ یہ روایت موقوفاً صحیح ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الوصايا / حدیث: 1535
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح، موقوف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: صَحِيحٌ مَوْقُوفٌ . »
«أخرجه سنن سعيد بن منصور برقم: 249، وأخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 21397»