المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الوصايا— وصیتوں کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ مِنْ تصدق ثُمَّ رجع ذَلِكَ إِلَيْهِ ميراثا باب: اس شخص کا بیان جس نے کوئی چیز صدقہ کی اور پھر وہی (صدقہ کی ہوئی چیز) میراث کے طور پر دوبارہ اسی کی طرف لوٹ آئی۔
حدیث نمبر: 1535
مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ - هُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ - ثَنَا سَلَمَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ الْعَدَوِيِّ ، عَنْ أَبِي الدَّهْمَاءِ ، أَنَّهُ تَصَدَّقَ عَلَى أُمِّهِ بِجَارِيَةٍ لَهُ كَاتَبَهَا ، فَمَاتَتِ الْأُمُّ وَعَلَيْهَا بَقِيَّةٌ مِنْ مُكَاتَبَتِهَا ، قَالَ : فَسَأَلْتُ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - فَقَالَ : أَنْتَ تَرِثُ أُمَّكَ ، وَأَنْ تُقَسِّمَهَا فِي ذِي قَرَابَتِهَا أَحَبُّ إِلَيَّ .
صَحِيحٌ مَوْقُوفٌ .ترجمہ
سیدنا ابوالدہماء سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی والدہ کو اپنی ایک ایسی لونڈی صدقہ میں دی تھی جس کے ساتھ انہوں نے مکاتبت کا معاہدہ کیا ہوا تھا، پھر ان کی والدہ کا انتقال ہو گیا جبکہ اس لونڈی کے ذمے مکاتبت کی کچھ رقم ابھی باقی تھی، وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے اس مسئلے کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے ارشاد فرمایا: ”تم اپنی والدہ کے وارث ہو گے، لیکن یہ کہ تم اس مال کو ان کے رشتہ داروں میں تقسیم کر دو تو یہ عمل مجھے زیادہ پسند ہے۔“ یہ روایت موقوفاً صحیح ہے۔