المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب العتق— غلاموں کو آزاد کرنے کے احکام کا بیان۔
باب (أحاديث 1511–1527) باب: (احادیث 1511 تا 1527)
الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبَانَ ، ثَنَا مَعْمَرُ بْنُ أَبَانَ بْنِ حُمْرَانَ ، أَنَا الزُّهْرِيُّ ، قَالَ : إِنَّ عُرْوَةَ أَخْبَرَهُ : أَنَّ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - سُئِلَتْ ، فَقِيلَ لَهَا : إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : لَأَنْ أَتَصَدَّقَ بِشِسْعِ نَعْلِي أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُعْتِقَ وَلَدَ زِنًى ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - : أَسَاءَ سَمْعًا فَأَسَاءَ إِجَابَةً ؛ إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : لَأَنْ أَتَصَدَّقُ بِشِسْعِ نَعْلِي أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ آمُرَ جَارِيَتِي تَزْنِي وَأُعْتِقَ وَلَدَهَا .سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ان سے دریافت کیا گیا کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اپنے جوتے کا تسمہ صدقہ کرنا میرے نزدیک کسی ولد الزنا (حرام کاری سے پیدا ہونے والے بچے) کو آزاد کرنے سے زیادہ محبوب ہے“، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے (اس کی وضاحت کرتے ہوئے) فرمایا: ”انہوں نے بات کو سننے میں خطا کی تو (نقل کرنے میں) جواب بھی غلط دے گئے؛ دراصل رسول اللہ ﷺ نے یہ ارشاد فرمایا تھا کہ ”اپنے جوتے کا تسمہ صدقہ کرنا میرے نزدیک اس بات سے زیادہ محبوب ہے کہ میں اپنی لونڈی کو بدکاری کا حکم دوں اور پھر (اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے) اس کے بچے کو آزاد کروں۔““