المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الجعالة باب: جعالہ (یعنی کسی کام کی انجام دہی یا کسی گمشدہ شے کی واپسی پر مقررہ انعام یا اجرت) کے احکام و مسائل کا بیان۔
حدیث نمبر: 1509
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الْمُحَبَّرِ ، ثَنَا مَيْسَرَةُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ، عَنْ أَبِي عَائِشَةَ السَّعْدِيِّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَا : خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرَ حَدِيثًا ، وَفِيهِ : وَمَنْ ظَلَمَ أَجِيرًا أَجْرَهُ حَبِطَ عَمَلُهُ وَحَرُمَ عَلَيْهِ رِيحُ الْجَنَّةِ ، وَرِيحُهَا يُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ خَمْسِمِائَةِ عَامٍ .ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان دونوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطبہ ارشاد فرمایا، پس آپ ﷺ نے ایک طویل حدیث ذکر فرمائی جس میں یہ ارشاد بھی تھا کہ ”اور جس نے کسی مزدور کی اجرت کے معاملے میں اس پر ظلم کیا تو اس کے اعمال ضائع ہو گئے اور اس پر جنت کی خوشبو حرام کر دی گئی، حالانکہ جنت کی خوشبو پانچ سو سال کی مسافت سے بھی محسوس کی جاتی ہے۔“