المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الطهارة— طہارت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْوُضُوءِ مِنْ أَلْبَانِ الْإِبِلِ باب: اونٹ کا دودھ پینے سے وضو کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 149
وَقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا مَرْوَانُ هُوَ الْفَزَارِيُّ ، عَنْ أَبَانَ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْرَبُ مِنَ اللَّبَنِ ، وَلَا يَتَوَضَّأُ مِنْهُ ، وَيُقْطَرُ عَلَى ثَوْبِهِ وَلَا يَغْسِلُهُ " .ترجمہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ دودھ نوش فرماتے تھے اور (اس کے بعد دوبارہ) وضو نہیں فرماتے تھے، اور کبھی دودھ کے قطرے آپ ﷺ کے لباسِ مبارک پر گر جاتے تو آپ ﷺ اسے (ناپاکی کے طور پر) دھوتے نہیں تھے۔“
اس روایت کی سند میں ابان بن ابی عیاش راوی ضعیف ہے، البتہ دودھ پینے کے بعد وضو کے واجب نہ ہونے پر دیگر صحیح احادیث دلالت کرتی ہیں جن میں صرف کلی کرنے کا تذکرہ ملتا ہے، اور یہ حدیث اس امر کی دلیل ہے کہ دودھ ناپاک نہیں ہے۔