المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الطهارة— طہارت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْوُضُوءِ مِنْ أَلْبَانِ الْإِبِلِ باب: اونٹ کا دودھ پینے سے وضو کرنے کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَذْرَمِيُّ ، أَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ الضَّبِّيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ ، هُوَ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ ذِي الْغُرَّةِ قَالَ : عَرَضَ أَعْرَابِيٌّ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَيْرٍ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، تُدْرِكُنَا الصَّلَاةُ وَنَحْنُ فِي أَعْطَانِ الْإِبِلِ أَفَنُصَلِّي ؟ فَقَالَ : صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا " . قَالَ : أَفَنَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِهَا ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَعَمْ " ، قَالَ : فَنُصَلِّي فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَعَمْ " . قَالَ : فَنَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِهَا ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا " .سیدنا ذی الغرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی رسول اللہ ﷺ کے سامنے اس وقت حاضر ہوا جب آپ ﷺ سفر فرما رہے تھے، تو اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! نماز کا وقت ہو جاتا ہے اور ہم اونٹوں کے باڑوں یعنی ان کے بیٹھنے کے ٹھکانوں میں ہوتے ہیں، تو کیا ہم وہاں نماز ادا کر لیں؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”نہیں۔“ اس نے عرض کیا: کیا ہم اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد وضو کریں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“ اس نے پھر دریافت کیا: کیا ہم بکریوں کے باڑوں یعنی ان کی آرام گاہوں میں نماز ادا کر لیا کریں؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ہاں۔“ اس نے عرض کیا: کیا ہم بکری کا گوشت کھانے کی وجہ سے وضو کریں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں۔“
اس حدیث کی سند میں عبداللہ بن عبداللہ ابوجعفر الرازی ہیں جو صدوق ہیں مگر ان کے حافظے میں کلام ہے، تاہم اس کے شواہد صحیح مسلم (360) اور دیگر کتبِ سنن میں موجود ہیں جس سے یہ متن صحیح ثابت ہوتا ہے۔