المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ اللقطة باب: گری پڑی یا گمشدہ ملی ہوئی چیز (لقطہ) کے شرعی احکام و مسائل کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ مَسْمُولٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَاسِمَ بْنَ مُخَوَّلٍ الْبَهْزِيَّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي - وَكَانَ قَدْ أَدْرَكَ الْجَاهِلِيَّةَ وَالْإِسْلَامَ - قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، نَلْقَى الْإِبِلَ وَبِهَا لَبَنٌ ، وَهِيَ مُصَرَّاةٌ ، وَنَحْنُ مُحْتَاجُونَ ؟ قَالَ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : نَادِ صَاحِبَ الْإِبِلِ ثَلَاثًا ، فَإِنْ جَاءَ وَإِلَّا فَاحْلُلْ صِرَارَهَا ثُمَّ اشْرَبْ ، ثُمَّ صُرَّ وَأَبْقِ لِلَّبَنِ ذَوَاعِيَهُ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، الضَّوَالُّ تَرِدُ عَلَيْنَا ، هَلْ لَنَا أَجْرٌ أَنْ نَسْقِيَهَا ؟ قَالَ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : نَعَمْ ، فِي كُلِّ ذَاتِ كَبِدٍ حَرَّاءَ أَجْرٌ .مخول بہزی سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں - اور انہوں نے دورِ جاہلیت اور اسلام دونوں کا زمانہ پایا تھا - کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم (راہ چلتے) اونٹوں کے پاس سے گزرتے ہیں جن کے تھنوں میں دودھ جمع ہوتا ہے اور وہ دودھ روکنے کے لیے باندھے گئے ہوتے ہیں، جبکہ ہم ضرورت مند (اور بھوکے) ہوتے ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اونٹوں کے مالک کو تین بار آواز دو، اگر وہ آ جائے (تو اجازت لے لو) ورنہ ان کا تھن کھول کر دودھ پی لو، پھر اسے واپس باندھ دو اور کچھ دودھ (تھن میں) آئندہ آنے والے کے لیے چھوڑ دو“، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! جو بھٹکے ہوئے جانور ہمارے پاس آتے ہیں، کیا انہیں پانی پلانے پر ہمیں کوئی اجر ملے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، ہر ترو تازہ (زندہ) جگر والے (جانور/ذی روح) کو پانی پلانے میں اجر ہے“۔