المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ اللقطة باب: گری پڑی یا گمشدہ ملی ہوئی چیز (لقطہ) کے شرعی احکام و مسائل کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : إِنَّ شَرِيكَ بْنَ أَبِي نَمِرٍ ، حَدَّثَهُ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : إِنَّ عَلِيًّا - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - أَتَاهُ بِدِينَارٍ وَجَدَهُ فِي السُّوقِ ، فَقَالَ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : عَرِّفْهُ ثَلَاثًا ، فَعَرَّفَهُ ، فَلَمْ يَجِدْ مَنْ يَعْرِفُهُ ، فَرَجَعَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرَهُ ، فَقَالَ : كُلْهُ ، أَوْ شَأْنَكَ بِهِ ، فَابْتَاعَ مِنْهُ بِثَلَاثَةِ دَرَاهِمَ شَعِيرًا ، وَبِثَلَاثَةِ دَرَاهِمَ تَمْرًا ، وَابْتَاعَ بِدِرْهَمٍ لَحْمًا ، وَبِدِرْهَمٍ زَيْتًا ، وَفَضَلَ عِنْدَهُ دِرْهَمٌ - وَكَانَ الصَّرْفُ أَحَدَ عَشَرَ بِدِينَارٍ - حَتَّى إِذَا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ جَاءَ صَاحِبُهُ فَعَرَفَهُ ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : أَمَرَنِي رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : إِنْ جَاءَنَا شَيْءٌ أَدَّيْنَاهُ إِلَيْكَ .
1479 \ 2 - تَابَعَهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ . أَخْرَجَهُ الْبَزَّارُ ، وَقَالَ : أَبُو بَكْرٍ هَذَا عِنْدِي هُوَ ابْنُ أَبِي سَبْرَةَ ، وَهُوَ لَيِّنُ الْحَدِيثِ . قُلْتُ : وَقَدْ ظَنَّ الْحَافِظُ الضِّيَاءُ أَنَّهُ غَيْرُهُ ، فَأَخْرَجَ هَذَا الْحَدِيثَ فِي الْمُخْتَارَةِ .سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے پاس سیدنا علی رضی اللہ عنہ ایک دینار لے کر آئے جو انہیں بازار میں ملا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تین دن تک اس کا اعلان کرو۔“ انہوں نے اعلان کیا مگر کوئی پہچاننے والا نہ ملا، پھر وہ نبی کریم ﷺ کے پاس واپس آئے اور خبر دی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے استعمال کر لو، یا جو مناسب سمجھو کرو۔“ چنانچہ انہوں نے اس سے تین درہم کا جو، تین درہم کی کھجوریں، ایک درہم کا گوشت اور ایک درہم کا تیل خریدا، اور ایک درہم باقی بچ گیا؛ اس وقت ایک دینار گیارہ درہم کا تھا۔ بعد میں اس کا مالک آ گیا اور اس نے اسے پہچان لیا، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اسے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے یہ حکم دیا تھا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اگر ہمارے پاس کوئی چیز آئی تو ہم تمہیں ادا کر دیں گے۔“ وضاحت: اس روایت کی متابعت یحییٰ بن سعید اموی نے ابن جریج سے کی ہے؛ امام بزار نے اسے روایت کیا اور کہا کہ میرے نزدیک یہ ابوبکر ابن ابی سبرہ ہیں، جو حدیث میں نرم ہیں۔