المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ اللقطة باب: گری پڑی یا گمشدہ ملی ہوئی چیز (لقطہ) کے شرعی احکام و مسائل کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَوْسٍ ، عَنْ بِلَالِ بْنِ يَحْيَى الْعَبْسِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - أَنَّهُ الْتَقَطَ دِينَارًا ، فَقَطَعَ مِنْهُ قِيرَاطَيْنِ ، ثُمَّ أَتَى فَاطِمَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - فَقَالَ : اصْنَعِي لَنَا طَعَامًا ، ثُمَّ انْطَلَقَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَدَعَاهُ ، فَأَتَاهُ وَمَنْ مَعَهُ ، فَأَتَاهُمْ بِحَفْنَةٍ ، فَلَمَّا رَآهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْكَرَهَا ، فَقَالَ : مَا هَذَا ؟ فَأَخْبَرَهُ ، فَقَالَ : أُلْقُطْهُ أُلْقُطْهُ ، عَلَيَّ الْقِيرَاطَانِ ، ضَعُوا أَيْدِيَكُمْ بِاسْمِ اللهِ .
هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ، أَخْرَجَ أَبُو دَاوُدَ مِنْهُ طَرَفًا قَصِيرًا .سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے (راستے سے) ایک دینار اٹھایا، پھر اس میں سے دو قیراط (کے برابر سونا) کاٹ لیا، پھر وہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور فرمایا: ”ہمارے لیے کھانا تیار کرو“، پھر وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ ﷺ کو مدعو کیا، پس آپ ﷺ اور آپ کے ہمراہ موجود لوگ تشریف لائے، پھر سیدنا علیؓ ان کے پاس ایک بڑے برتن میں کھانا لے کر آئے، تو جب نبی کریم ﷺ نے اسے دیکھا تو اس پر ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا اور دریافت کیا: ”یہ کیا ہے؟“، پس سیدنا علیؓ نے آپ ﷺ کو اس کی تفصیل بتائی، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اسے (بطور لقطہ) سنبھال کر رکھو، اسے سنبھال کر رکھو، وہ دو قیراط میرے ذمے ہیں“، اور فرمایا: ”تم سب «بِاسْمِ اللهِ» ”اللہ کے نام کے ساتھ“ اپنے ہاتھ بڑھاؤ“۔ یہ حدیث حسن ہے، اور امام ابوداؤد نے اس کا ایک مختصر حصہ روایت کیا ہے۔