المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الطهارة— طہارت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْوُضُوءِ مِنَ النَّوْمِ باب: نیند کے سبب وضو کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 147
وَقَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ ، ثَنَا خَالِدٌ ، ثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، أَوْ عَنْ نَاسٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُمْ كَانُوا يَضَعُونَ جُنُوبَهُمْ ، فَذَكَرَهُ .
147 \ 2 - وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ التَّمَّارُ ، ثَنَا أَبُو هِلَالٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : " كُنَّا نَجِيءُ مَسْجِدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِنُصَلِّيَ ، فَنَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ ، فَمِنَّا مَنْ نَعَسَ أَوْ نَامَ ، فَلَا يُحْدِثُ وُضُوءًا " .
قَالَ هُشَيْمٌ : لَا يُؤْخَذُ بِهَذَا .ترجمہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ یا رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کی ایک جماعت سے مروی ہے کہ وہ (نماز کے انتظار میں) اپنے پہلوؤں کے بل لیٹ جایا کرتے تھے، نیز سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”ہم نبی کریم ﷺ کی مسجد میں نماز ادا کرنے کے لیے حاضر ہوتے اور پھر نماز کا انتظار کرتے، تو ہم میں سے کوئی اونگھنے لگتا یا سو جاتا، مگر وہ (نماز کے لیے) نیا وضو نہیں کرتے تھے۔“
ہشیم کہتے ہیں کہ ”اس (اثر) پر عمل نہیں کیا جائے گا۔“