❮
❯
حدیث نمبر: 146
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَامِرٍ ، ثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ حَجَّاجٍ قَالَ : ذَكَرْتُ لِعَطَاءٍ ، يَعْنِي نَوْمَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَتَّى نَفَخَ ثُمَّ صَلَّى ، فَقَالَ : " لَمْ يَكُنِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَغَيْرِهِ " .
ترجمہ

حجاج سے روایت ہے کہ انہوں نے (امام) عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ کے سامنے نبی کریم ﷺ کی نیند کی اس کیفیت کا تذکرہ کیا کہ آپ ﷺ (کبھی) اس قدر گہری نیند سو جاتے کہ آپ ﷺ کے سانس لینے کی بوجھل آواز سنائی دینے لگتی، پھر آپ ﷺ (بیدار ہو کر نئے وضو کے بغیر ہی) نماز ادا فرما لیتے، اس پر عطاء رحمہ اللہ نے فرمایا: ”نبی کریم ﷺ (نیند کی حالت میں وضو برقرار رہنے کے معاملے میں) دیگر لوگوں کی طرح نہیں تھے۔“
اس روایت کو امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کے راوی حجاج بن ارطاہ اگرچہ حافظے کے اعتبار سے محلِ کلام ہیں لیکن اس کا مضمون صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی ان مستند احادیث کے عین مطابق ہے جن میں صراحت ہے کہ نبی کریم ﷺ کا قلبِ اطہر بیدار رہتا تھا، اسی لیے آپ ﷺ کی نیند دیگر انسانوں کی طرح ناقضِ وضو نہ تھی۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الطهارة / حدیث: 146
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :حسن لغيره. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»