المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الصلح باب: صلح سے متعلق احکام و مسائل کا بیان۔
حدیث نمبر: 1464
مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، وَزِيَادِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : حَرِيمُ قَلِيبِ الْبِئْرِ الْعَادِيَّةِ خَمْسُونَ ذِرَاعًا ، وَحَرِيمُ قَلِيبِ الْبَدَى خَمْسَةٌ وَعِشْرُونَ ذِرَاعًا . قَالَ سَعِيدٌ مِنْ قِبَلِ نَفْسِهِ ، وَلَمْ يَرْفَعْهُ : وَحَرِيمُ قَلِيبِ الزَّرْعِ ثَلَاثُمِائَةِ ذِرَاعٍ .
رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ فِي الْمَرَاسِيلِ مِنْ طَرِيقِ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ وَحْدَهُ .ترجمہ
امام زہری سے اور انہوں نے سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”قدیم جاہلی دور کے کنویں کی حریمی حدود پچاس ہاتھ ہیں، اور نئے کھودے گئے کنویں کی حریمی حدود پچیس ہاتھ ہیں“۔ سعید بن مسیب نے یہ بات اپنی جانب سے کہی اور اسے نبی کریم ﷺ تک مرفوعاً بیان نہیں کیا کہ: ”اور کھیتی باڑی کے لیے مخصوص کنویں کی حریمی حدود تین سو ہاتھ ہیں“۔ اس روایت کو امام ابوداؤد نے اپنی تصنیف ’المراسیل‘ میں امام ثوری کے طریق سے صرف اسماعیل بن امیہ کے واسطے سے روایت کیا ہے۔