المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الصلح باب: صلح سے متعلق احکام و مسائل کا بیان۔
الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، ثَنَا مَيْسَرَةُ ، عَنْ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ - قَالَا : خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ..فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَفِيهِ : وَمَنْ مَشَى فِي صُلْحٍ بَيْنَ اثْنَيْنِ ، صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ حَتَّى يَرْجِعَ ، وَأُعْطِيَ أَجْرَ لَيْلَةِ الْقَدْرِ ، وَفِيهِ : وَمَنْ خَانَ جَارَهُ شِبْرًا مِنَ الْأَرْضِ ، طُوِّقَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَى سَبْعِ أَرَضِينَ نَارًا ، حَتَّى يَدْخُلَ جَهَنَّمَ .
هَذَا حَدِيثٌ مَوْضُوعٌ .سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ ان دونوں جلیل القدر صحابہ نے بیان فرمایا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ہمیں خطبہ ارشاد فرمایا۔۔۔ پھر راوی نے مکمل حدیث ذکر کی جس میں یہ ارشادِ گرامی بھی ہے: ”اور جو شخص دو افراد کے درمیان صلح کرانے کی تگ و دو میں چلا، تو فرشتے اس کے واپس لوٹنے تک اس کے لیے دعائے رحمت کرتے رہتے ہیں، اور اسے لیلۃ القدر کا اجر عطا کیا جاتا ہے“، اور اسی حدیث میں یہ بھی ہے: ”اور جس نے اپنے پڑوسی کے ساتھ زمین کے ایک بالشت کے برابر بھی خیانت کی، تو قیامت کے دن سات زمینوں تک وہ حصہ آگ کا طوق بنا کر اس کے گلے میں ڈالا جائے گا، یہاں تک کہ وہ جہنم میں داخل ہو جائے“۔ یہ حدیث موضوع (من گھڑت) ہے۔