المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الصلح باب: صلح سے متعلق احکام و مسائل کا بیان۔
حدیث نمبر: 1462
قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُبَادَةَ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ لِي النَّبِيُّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : يَا أَبَا أَيُّوبَ ، أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى صَدَقَةٍ يُحِبُّهَا اللهُ وَرَسُولُهُ ؟ أَصْلِحْ بَيْنَ النَّاسِ إِذَا تَبَاغَضُوا وَتَفَاسَدُوا ! .ترجمہ
سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”اے ابو ایوب! کیا میں تمہیں ایسے صدقے کی راہ نہ دکھاؤں جسے اللہ اور اس کا رسول پسند کرتے ہیں؟ جب لوگوں کے درمیان باہمی بغض و عناد پیدا ہو جائے اور ان کے تعلقات خراب ہو جائیں تو ان کے درمیان صلح کروا دیا کرو!“