المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الطهارة— طہارت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْوُضُوءِ مِنَ النَّوْمِ باب: نیند کے سبب وضو کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 145
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ ، ثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، قَالَ : رَأَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " يَنَامُ قَاعِدًا حَتَّى أَسْمَعَ غَطِيطَهُ ، ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّي وَلَا يَتَوَضَّأُ " .ترجمہ
امام اعرج رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: ”میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ بیٹھے ہوئے (ایسی گہری نیند) سو جاتے تھے کہ میں ان کے خراٹوں کی آواز سنتا تھا، پھر وہ اٹھتے اور نماز ادا فرماتے اور (دوبارہ) وضو نہیں کرتے تھے۔“
تخریج و تحکیم: اس اثر کی سند صحیح ہے، یہ روایت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جم کر بیٹھنے کی حالت میں نیند وضو کو نہیں توڑتی۔