المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ العارية باب: عاریت (یعنی کسی چیز کو عارضی طور پر استعمال کے لیے حاصل کرنے) کے احکام و مسائل کا بیان۔
حدیث نمبر: 1458
ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْعَبَّاسِ ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : الْعَارِيَةُ مَرْدُودَةٌ ، وَالْمِنْحَةُ مَرْدُودَةٌ .ترجمہ
راوی بیان کرتے ہیں کہ مجھے ابو العباس نے انصار کے ایک شخص کے حوالے سے خبر دی، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”عاریت (مانگی ہوئی چیز) واپس کی جانے والی ہے اور منحه (دودھ یا پھل کے حصول کے لیے عارضی طور پر دیا گیا جانور یا باغ) بھی واپس لوٹایا جانے والا ہے“۔