المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ القراض باب: قراض (مضاربت) کے احکام و مسائل کا بیان۔
حدیث نمبر: 1459
أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو الْحَكَمِ مِسْجَعُ بْنُ مُصْعَبٍ ، ثَنَا يُونُسُ بْنُ أَرْقَمَ ، ثَنَا أَبُو الْجَارُودِ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - قَالَ : كَانَ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - إِذَا دَفَعَ مَالًا مُضَارَبَةً اشْتَرَطَ عَلَى صَاحِبِهِ أَلَّا يَسِيرَ بَرًّا وَلَا بَحْرًا ، وَلَا يَنْزِلَ بِهِ وَادِيًا ، وَلَا يَشْتَرِيَ بِهِ ذَاتَ كَبِدٍ رَطْبَةٍ ، فَإِذَا فَعَلَ ذَلِكَ فَهُوَ ضَامِنٌ ، فَرَفَعَ شَرْطَهُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَجَازَهُ .ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”سیدنا عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ جب اپنا مال بطور مضاربت (سرمایہ کاری کے لیے) دیتے تو اپنے شریکِ کار پر یہ شرط عائد کرتے تھے کہ وہ اس مال کو لے کر نہ تو خشکی کا سفر کرے گا اور نہ ہی سمندر کا، اور نہ اسے لے کر کسی وادی میں اترے گا، اور نہ ہی اس کے ذریعے کوئی جاندار (تر کلیجے والی مخلوق) خریدے گا، پس اگر اس نے ایسا کیا تو وہ (نقصان کی صورت میں مال کا) ضامن ہوگا، پھر انہوں نے اپنی یہ شرط نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں پیش کی تو آپ ﷺ نے اسے جائز قرار دیا۔“