المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ استحقاق البائع مَالٍ العبد دُونَ مشتريه باب: غلام کے مال کا حق خریدار کے بجائے فروخت کنندہ کو حاصل ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1457
إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمَدَنِيُّ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ... عَلِيٍّ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : مَنْ بَاعَ عَبْدًا وَلَهُ مَالٌ ، فَمَالُهُ لِلْبَائِعِ ، إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ ، وَمَنْ بَاعَ نَخْلًا قَدْ أُبِّرَتْ فَثَمَرَتُهَا لِلْبَائِعِ ، إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ . قَضَى بِذَلِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .ترجمہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”جس شخص نے کوئی ایسا غلام فروخت کیا جس کے پاس کچھ مال و متاع ہو، تو وہ مال بیچنے والے ہی کا حق ہے، الا یہ کہ خریدار (اسے حاصل کرنے کی) شرط لگا دے، اور جس شخص نے کھجور کے ایسے درخت فروخت کیے جن کی پیوند کاری (تابیر) کی جا چکی ہو، تو ان کا پھل بیچنے والے ہی کا ہو گا، الا یہ کہ خریدنے والا اس کی شرط مقرر کر دے؛ اللہ کے رسول ﷺ نے اسی بات کا فیصلہ صادر فرمایا ہے۔“