المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ لصاحب الحق مقال وَفَضْلِ مِنْ أدى دينه باب: صاحبِ حق کو مطالبے کا حق ہونے اور اچھے طریقے سے قرض ادا کرنے والے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1456
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ زَمْعَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : إِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّ بِهِ وَهُوَ مُلَازِمٌ رَجُلًا فِي أُوقِيَّتَيْنِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - هَكَذَا ، أَيْ : ضَعْ عَنْهُ الشَّطْرَ . الْحَدِيثَ .
قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ دُونَ قَوْلِهِ : أُوقِيَّتَيْنِ .ترجمہ
ابن کعب بن مالک سے اور انہوں نے اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کرتے ہوئے بیان کیا کہ انہوں نے کہا: بیشک نبی کریم ﷺ ان کے پاس سے گزرے درآنحالیکہ وہ ایک شخص سے دو اوقیہ (قرض) کے معاملے میں لپٹے ہوئے (سختی سے تقاضا کر رہے) تھے، تو نبی کریم ﷺ نے اس طرح (اشارہ) فرمایا، یعنی: ”اس سے آدھا قرض ساقط کر دو“؛ (یہ مکمل) حدیث ہے؛ میں (مؤلف) کہتا ہوں کہ یہ روایت صحیح (بخاری و مسلم) میں موجود ہے سوائے ان کے اس قول ”دو اوقیہ“ کے ذکر کے۔