❮
❯
حدیث نمبر: 1455
وَقَالَ الطَّيَالِسِيُّ : حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَنِ الْقَاسِمِ مَوْلَى يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : انْطُلِقَ بِرَجُلٍ إِلَى بَابِ الْجَنَّةِ ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ ، فَإِذَا عَلَى بَابِ الْجَنَّةِ مَكْتُوبٌ : الصَّدَقَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا ، وَالْقَرْضُ الْوَاحِدُ بِثَمَانِيَةَ عَشَرَ ; لِأَنَّ صَاحِبَ الْقَرْضِ لَا يَأْتِيكَ إِلَّا وَهُوَ مُحْتَاجٌ ، وَإِنَّ الصَّدَقَةَ رُبَّمَا وَقَعَتْ فِي يَدِ الْغَنِيِّ .
ترجمہ

سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ایک شخص کو جنت کے دروازے کی طرف لے جایا گیا، تو اس نے اپنا سر اٹھایا، تو دیکھا کہ جنت کے دروازے پر یہ مرقوم ہے: صدقہ کا اجر اس کے دس گنا کے برابر ہے، اور ایک (مرتبہ) قرض دینا اٹھارہ گنا (ثواب کا باعث) ہے؛ اس کی وجہ یہ ہے کہ قرض طلب کرنے والا تمہارے پاس صرف اسی وقت آتا ہے جب وہ حاجت مند ہو، جبکہ صدقہ بسا اوقات کسی مالدار کے ہاتھ میں بھی چلا جاتا ہے۔“

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب البيوع / حدیث: 1455
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف جدًا. »
«أخرجه مسند الطيالسي برقم: 1237، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 7976»