المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ لصاحب الحق مقال وَفَضْلِ مِنْ أدى دينه باب: صاحبِ حق کو مطالبے کا حق ہونے اور اچھے طریقے سے قرض ادا کرنے والے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1455
وَقَالَ الطَّيَالِسِيُّ : حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَنِ الْقَاسِمِ مَوْلَى يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : انْطُلِقَ بِرَجُلٍ إِلَى بَابِ الْجَنَّةِ ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ ، فَإِذَا عَلَى بَابِ الْجَنَّةِ مَكْتُوبٌ : الصَّدَقَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا ، وَالْقَرْضُ الْوَاحِدُ بِثَمَانِيَةَ عَشَرَ ; لِأَنَّ صَاحِبَ الْقَرْضِ لَا يَأْتِيكَ إِلَّا وَهُوَ مُحْتَاجٌ ، وَإِنَّ الصَّدَقَةَ رُبَّمَا وَقَعَتْ فِي يَدِ الْغَنِيِّ .ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ایک شخص کو جنت کے دروازے کی طرف لے جایا گیا، تو اس نے اپنا سر اٹھایا، تو دیکھا کہ جنت کے دروازے پر یہ مرقوم ہے: صدقہ کا اجر اس کے دس گنا کے برابر ہے، اور ایک (مرتبہ) قرض دینا اٹھارہ گنا (ثواب کا باعث) ہے؛ اس کی وجہ یہ ہے کہ قرض طلب کرنے والا تمہارے پاس صرف اسی وقت آتا ہے جب وہ حاجت مند ہو، جبکہ صدقہ بسا اوقات کسی مالدار کے ہاتھ میں بھی چلا جاتا ہے۔“