المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ لصاحب الحق مقال وَفَضْلِ مِنْ أدى دينه باب: صاحبِ حق کو مطالبے کا حق ہونے اور اچھے طریقے سے قرض ادا کرنے والے کی فضیلت کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْغَفَّارِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي دَاوُدَ ، عَنْ بُرَيْدَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا كَانَ لَهُ بِكُلِّ يَوْمٍ صَدَقَةٌ ، ثُمَّ قَالَ بَعْدَ ذَلِكَ : مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا كَانَ لَهُ بِكُلِّ يَوْمٍ مِثْلُ الَّذِي أَنْظَرَهُ .
قَالَ بُرَيْدَةُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، مَا هَذَا ؟ قَالَ : أَنْ يُؤْتَى بِكُلِّ يَوْمٍ صَدَقَةً قَبْلَ الْأَجَلِ ، وَيُؤْتَى بِكُلِّ يَوْمٍ مِثْلَ الَّذِي أَنْظَرَهُ صَدَقَةً بَعْدَ الْأَجَلِ .سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص کسی تنگدست کو مہلت دے، اس کے لیے ہر دن کے عوض ایک صدقہ ہے“، پھر اس کے بعد آپ نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص کسی تنگدست کو مہلت دے، اس کے لیے ہر دن اس (قرض) کی مثل صدقہ ہے جس کی اس نے مہلت دی ہے“، سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ (ارشاد) کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ادائیگی کی مدت آنے سے قبل ہر دن ایک صدقہ دیا جاتا ہے، اور مدت گزر جانے کے بعد (مزید مہلت دینے کی صورت میں) ہر دن اس (قرض) کی مقدار کے برابر صدقہ دیا جاتا ہے جس کی اس نے مہلت دی ہے“۔