المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ القرض والترهيب مِنْ الاستدانة وَالتَّرْغِيبِ فِي الصبر عَلَى المعسر باب: قرض، قرض لینے سے ڈرانے اور تنگ دست مقروض کے ساتھ صبر کی ترغیب کا بیان۔
حدیث نمبر: 1451
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، ثَنَا أَبُو مَرْيَمَ ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ - وَكَانَ بَدْرِيًّا - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَسْتَظِلَّ أَوْ يُظِلَّهُ اللهُ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ أَوْ مِنْ حَرِّ جَهَنَّمَ ؟ فَقَالَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ : نَحْنُ يَا رَسُولَ اللهِ ! قَالَ : مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا أَوْ وَضَعَ عَنْ غَرِيمِهِ .ترجمہ
ابو جعفر سے اور انہوں نے انصار کے ایک شخص سے روایت ہے کہ —جو کہ غزوۂ بدر میں شریک تھے—وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”کون اس بات کو پسند کرتا ہے کہ وہ سایہ حاصل کرے یا اللہ تعالیٰ اسے جہنم کی لپٹ یا دوزخ کی تپش سے اپنے سائے میں ڈھانپ لے؟“ تو ان تمام لوگوں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! ہم سب (یہ چاہتے ہیں)۔“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”وہ شخص (یہ فضیلت پا سکتا ہے) جس نے کسی تنگدست کو مہلت دی یا اپنے مقروض کا قرض معاف کر دیا۔“