المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ القرض والترهيب مِنْ الاستدانة وَالتَّرْغِيبِ فِي الصبر عَلَى المعسر باب: قرض، قرض لینے سے ڈرانے اور تنگ دست مقروض کے ساتھ صبر کی ترغیب کا بیان۔
حدیث نمبر: 1450
وَقَالَ عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، ثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ : إِنَّ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - جَاءَ يَتَقَاضَى دَيْنًا لَهُ عَلَى رَجُلٍ ، فَقَالُوا : قَدْ خَرَجَ . قَالَ : فَأَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : لَوْ أَنَّ رَجُلًا قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللهِ تَعَالَى ، ثُمَّ أُحْيِيَ ثُمَّ قُتِلَ ثُمَّ أُحْيِيَ ثُمَّ قُتِلَ لَمْ يَدْخُلِ الْجَنَّةَ حَتَّى يُقْضَى دَيْنُهُ .ترجمہ
ابو کثیر سے روایت ہے کہ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اپنا ایک قرض طلب کرنے آئے جو کسی شخص کے ذمے واجب الادا تھا۔ لوگوں نے کہا کہ وہ شخص باہر گیا ہوا ہے۔ اس پر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: اگر کوئی شخص اللہ تعالیٰ کی راہ میں شہید کیا جائے، پھر دوبارہ زندہ کیا جائے، پھر شہید کیا جائے، پھر دوبارہ زندہ کیا جائے اور پھر تیسری بار شہید کیا جائے، تب بھی وہ جنت میں داخل نہیں ہو سکے گا جب تک اس کا قرض ادا نہ کر دیا جائے۔“