المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ القرض والترهيب مِنْ الاستدانة وَالتَّرْغِيبِ فِي الصبر عَلَى المعسر باب: قرض، قرض لینے سے ڈرانے اور تنگ دست مقروض کے ساتھ صبر کی ترغیب کا بیان۔
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الْمُحَبَّرِ ، ثَنَا مَيْسَرَةُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ، عَنْ أَبِي عَائِشَةَ السَّعْدِيِّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ - قَالَ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ....فَذَكَرَ حَدِيثًا طَوِيلًا ، وَفِيهِ : وَمَنْ أَقْرَضَ مَلْهُوفًا ، فَأَحْسَنَ طَلَبَهُ ، فَلْيَسْتَأْنِفِ الْعَمَلَ ، وَلَهُ عِنْدَ اللهِ تَعَالَى بِكُلِّ دِرْهَمٍ أَلْفُ قِنْطَارٍ لَهُ فِي الْجَنَّةِ . وَمَنْ أَقْرَضَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ فَلَهُ بِكُلِّ دِرْهَمٍ وَزْنُ جَبَلِ أُحُدٍ ، وَحِرَاءٍ ، وَطُورِ سَيْنَاءَ ، حَسَنَاتٍ ، فَإِنْ رَفَقَ بِهِ فِي طَلَبِهِ بَعْدَ حِلِّهِ ، جَرَى عَلَيْهِ بِكُلِّ يَوْمٍ صَدَقَةٌ ، وَجَازَ عَلَى الصِّرَاطِ كَالْبَرْقِ اللَّامِعِ ، لَا حِسَابَ عَلَيْهِ وَلَا عَذَابَ ، وَمَنِ احْتَاجَ إِلَيْهِ أَخُوهُ الْمُسْلِمُ فِي قَرْضٍ فَلَمْ يُقْرِضْهُ وَهُوَ عِنْدَهُ حَرَّمَ اللهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ يَوْمَ يَجْزِي الْمُحْسِنِينَ .سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ آپ حضرات نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطبہ دیا، پھر راوی نے ایک طویل حدیث بیان کی جس میں یہ (ارشاد) بھی ہے: ”اور جس نے کسی دکھیارے اور فریادی کو قرض دیا، پھر (وصولی کے) مطالبے میں حسنِ سلوک اور عمدہ طریقے سے کام لیا، تو وہ اپنے عمل کا از سرِ نو آغاز کرے (یعنی گناہوں سے پاک ہو جائے) اور اللہ تعالیٰ کے حضور اس کے لیے جنت میں ہر درہم کے بدلے ایک ہزار قنطار اجر ہے؛ اور جس نے اپنے کسی مسلمان بھائی کو قرض دیا، تو اسے ہر درہم کے عوض جبلِ احد، جبلِ حراء اور طورِ سینا کے ہم وزن نیکیاں ملیں گی، پھر اگر اس نے قرض کی مدت پوری ہو جانے کے بعد بھی اس کے ساتھ مطالبے میں نرمی کا رویہ اپنایا، تو اس کے لیے ہر دن کے بدلے صدقے کا ثواب جاری رہے گا اور وہ پل صراط سے کوندتی بجلی کی طرح گزر جائے گا، نہ اس پر کوئی حساب ہوگا اور نہ کوئی عذاب؛ اور جس سے اس کے کسی مسلمان بھائی نے قرض کی ضرورت پیش کی اور اس کے پاس (مال) موجود ہونے کے باوجود اس نے اسے قرض نہ دیا، تو اللہ تعالیٰ اس پر اس دن جنت حرام فرما دے گا جس دن وہ احسان کرنے والوں کو جزا عطا فرمائے گا۔“