المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الطهارة— طہارت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْوُضُوءِ مِنَ النَّوْمِ باب: نیند کے سبب وضو کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 144
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ ، ثَنَا مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا . وَعَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَا : " مَنْ نَامَ عَلَى كُلِّ حَالٍ لَا يَعْقِلُ فَعَلَيْهِ الْوُضُوءُ " .ترجمہ
سیدہ عائشہ اور سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ ان دونوں نے فرمایا: ”جو شخص کسی بھی حالت میں اس طرح (گہری نیند) سو جائے کہ اسے اپنے گرد و پیش کا کچھ ہوش نہ رہے (یعنی اس کی عقل و شعور مغلوب ہو جائے)، تو اس پر دوبارہ وضو کرنا لازم ہے۔“
اس اثر سے یہ فقہی قاعدہ مستنبط ہوتا ہے کہ نیند بذاتِ خود ناقضِ وضو نہیں بلکہ عقل و شعور کا مفقود ہو جانا حدث کا سبب ہے، لہٰذا اگر نیند اس قدر گہری ہو کہ انسان اپنی کیفیات سے بے خبر ہو جائے تو وضو کا اعادہ واجب ہو جاتا ہے۔