❮
❯
حدیث نمبر: 1448
وَقَالَ : حَدَّثَنَا عَمَّارٌ ، ثَنَا يُوسُفُ - هُوَ ابْنُ عَطِيَّةَ - ثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُتِيَ بِجِنَازَةٍ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهَا ، قَالَ : هَلْ عَلَيْهِ دَيْنٌ ؟ قَالُوا : نَعَمْ . قَالَ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : فَإِنَّ جِبْرِيلَ - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ - نَهَانِي أَنْ أُصَلِّيَ عَلَى مَنْ عَلَيْهِ دَيْنٌ . ثُمَّ قَالَ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : إِنَّ صَاحِبَ الدَّيْنِ مُرْتَهَنٌ فِي قَبْرِهِ حَتَّى يُقْضَى عَنْهُ .
ترجمہ

راوی بیان کرتے ہیں کہ ہمیں عمار نے حدیث بیان کی، ہمیں یوسف (جو کہ ابن عطیہ ہیں) نے حدیث بیان کی، ہمیں ثابت نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے بیان کیا کہ انہوں نے فرمایا: نبی کریم ﷺ کے پاس ایک جنازہ لایا گیا تاکہ آپ ﷺ اس کی نمازِ جنازہ پڑھائیں، تو آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”کیا اس پر کوئی قرض ہے؟“ لوگوں نے عرض کیا: جی ہاں، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بلاشبہ جبرائیل علیہ السلام نے مجھے اس شخص پر نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے جس پر قرض ہو“، پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”یقیناً قرض دار اپنی قبر میں (قرض کے بدلے) گروی رہتا ہے یہاں تک کہ اس کی طرف سے وہ قرض ادا کر دیا جائے“۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب البيوع / حدیث: 1448
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف. »
«أخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 3603، 3604، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 2926، 2928/1»