المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ القرض والترهيب مِنْ الاستدانة وَالتَّرْغِيبِ فِي الصبر عَلَى المعسر باب: قرض، قرض لینے سے ڈرانے اور تنگ دست مقروض کے ساتھ صبر کی ترغیب کا بیان۔
وَقَالَ : حَدَّثَنَا عَمَّارٌ ، ثَنَا يُوسُفُ - هُوَ ابْنُ عَطِيَّةَ - ثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُتِيَ بِجِنَازَةٍ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهَا ، قَالَ : هَلْ عَلَيْهِ دَيْنٌ ؟ قَالُوا : نَعَمْ . قَالَ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : فَإِنَّ جِبْرِيلَ - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ - نَهَانِي أَنْ أُصَلِّيَ عَلَى مَنْ عَلَيْهِ دَيْنٌ . ثُمَّ قَالَ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : إِنَّ صَاحِبَ الدَّيْنِ مُرْتَهَنٌ فِي قَبْرِهِ حَتَّى يُقْضَى عَنْهُ .راوی بیان کرتے ہیں کہ ہمیں عمار نے حدیث بیان کی، ہمیں یوسف (جو کہ ابن عطیہ ہیں) نے حدیث بیان کی، ہمیں ثابت نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے بیان کیا کہ انہوں نے فرمایا: نبی کریم ﷺ کے پاس ایک جنازہ لایا گیا تاکہ آپ ﷺ اس کی نمازِ جنازہ پڑھائیں، تو آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”کیا اس پر کوئی قرض ہے؟“ لوگوں نے عرض کیا: جی ہاں، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بلاشبہ جبرائیل علیہ السلام نے مجھے اس شخص پر نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے جس پر قرض ہو“، پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”یقیناً قرض دار اپنی قبر میں (قرض کے بدلے) گروی رہتا ہے یہاں تک کہ اس کی طرف سے وہ قرض ادا کر دیا جائے“۔