المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ القرض والترهيب مِنْ الاستدانة وَالتَّرْغِيبِ فِي الصبر عَلَى المعسر باب: قرض، قرض لینے سے ڈرانے اور تنگ دست مقروض کے ساتھ صبر کی ترغیب کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي الرَّبِيعِ ، ثَنَا عِيسَى بْنُ صَدَقَةَ بْنِ عَبَّادٍ الْيَشْكُرِيُّ ، قَالَ : دَخَلْتُ مَعَ أَبِي عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - فَقُلْنَا لَهُ : حَدِّثْنَا حَدِيثًا يَنْفَعُنَا اللهُ تَعَالَى بِهِ ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَمُوتَ وَلَا دَيْنَ عَلَيْهِ فَلْيَفْعَلْ ، فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأُتِيَ بِجِنَازَةِ رَجُلٍ ، وَعَلَيْهِ دَيْنٌ ، فَقَالَ : لَا أُصَلِّي عَلَيْهِ حَتَّى تَضْمَنُوا دَيْنَهُ ، فَإِنَّ صَلَاتِي عَلَيْهِ تَنْفَعُهُ . فَلَمْ يَضْمَنُوا دَيْنَهُ ، وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ ، وَقَالَ : إِنَّهُ مُرْتَهَنٌ فِي قَبْرِهِ .امام ابو یعلیٰ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ہمیں سعید بن ابی الربیع نے حدیث بیان کی، ہمیں عیسیٰ بن صدقہ بن عباد الیشکری نے حدیث بیان کی، وہ کہتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ہمراہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو ہم نے ان سے عرض کی کہ ہمیں کوئی ایسی حدیث سنائیے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ ہمیں نفع عطا فرمائے، تو میں نے انہیں یہ فرماتے ہوئے سنا: ”تم میں سے جو شخص اس بات کی استطاعت رکھتا ہو کہ وہ اس حال میں فوت ہو کہ اس پر کسی کا قرض نہ ہو تو اسے ایسا ہی کرنا چاہیے، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ کے پاس ایک شخص کا جنازہ لایا گیا جس پر قرض تھا، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”میں اس پر اس وقت تک نمازِ جنازہ نہیں پڑھوں گا جب تک تم اس کے قرض کی ضمانت نہ دے دو، کیونکہ میری نماز اس کے لیے نفع بخش ہے“، چنانچہ جب انہوں نے اس کے قرض کی ضمانت نہ دی تو آپ ﷺ نے اس کی نمازِ جنازہ نہیں پڑھائی اور ارشاد فرمایا: ”بے شک وہ اپنی قبر میں گروی ہے“۔“