المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الطهارة— طہارت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْوُضُوءِ مِنَ النَّوْمِ باب: نیند کے سبب وضو کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 143
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ ، ثَنَا ابْنُ أَبِي سَبْرَةَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ ، عَنْ حَرْمَلَةَ مَوْلَى زَيْدٍ قَالَ : اسْتَفْتَيْتُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ فِي النَّوْمِ قَاعِدًا ، فَلَمْ يَرَ بِهِ بَأْسًا ، قُلْتُ : أَرَأَيْتَ إِنْ وَضَعْتُ جَنْبِي ؟ قَالَ : " تَوَضَّأْ " .ترجمہ
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام حرملہ سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے بیٹھ کر نیند لینے کے متعلق شرعی مسئلہ پوچھا تو انہوں نے اس میں کوئی حرج محسوس نہ کیا (یعنی اسے ناقضِ وضو قرار نہیں دیا)۔ میں نے عرض کیا کہ آپ کا کیا خیال ہے اگر میں (سونے کے لیے) اپنا پہلو زمین پر لگا دوں؟ انہوں نے فرمایا: ”پھر تم وضو کرو۔“
اس روایت کی سند میں محمد بن عمر الواقدی اور ابن ابی سبرہ متروک اور شدید ضعیف راوی ہیں، نیز عاصم بن عبید اللہ بھی سوءِ حفظ کی بنا پر ضعیف قرار دیے گئے ہیں، اس لیے علمی و فنی طور پر یہ روایت سنداﹰ ضعیف ہے۔