المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ التَّرْهِيبِ مِنْ سوء التقاضي وَمَنْ المطل باب: حق کے تقاضے میں بدسلوکی اور ادائیگی میں ٹال مٹول سے ڈرانے کا بیان۔
الْحَارِثُ 1436 : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الْمُحَبَّرِ ، ثَنَا مَيْسَرَةُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ، عَنْ أَبِي عَائِشَةَ السَّعْدِيِّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ - قَالَا : خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ... فَذَكَرَ حَدِيثًا طَوِيلًا ، فِيهِ : وَمَنْ عَسَّرَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ نَزَعَ اللهُ مِنْهُ رِزْقَهُ ، وَأَفْسَدَ عَلَيْهِ مَعِيشَتَهُ ، وَوَكَلَهُ إِلَى نَفْسِهِ . وَمَنْ ضَارَّ مُسْلِمًا فَلَيْسَ مِنَّا وَلَسْتُ مِنْهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ، وَمَنْ مَطَلَ طَالِبَهُ وَهُوَ يَقْدِرُ عَلَى قَضَائِهِ فَعَلَيْهِ خَطِيئَةُ عَشَّارٍ . فَقَامَ إِلَيْهِ عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ ، فَقَالَ : وَمَا خَطِيئَةُ عَشَّارٍ ؟ فَقَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : خَطِيئَةُ الْعَشَّارِ أَنَّ عَلَيْهِ فِي كُلِّ يَوْمٍ لَعْنَةَ اللهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ، وَمَنْ يَلْعَنِ اللهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهُ نَصِيرًا .
هَذَا حَدِيثٌ مَوْضُوعٌ .سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطبہ ارشاد فرمایا، پھر راوی نے ایک طویل حدیث ذکر کی جس میں یہ ارشاد بھی ہے: ”جس شخص نے اپنے مسلمان بھائی کے لیے تنگی پیدا کی، اللہ تعالیٰ اس سے اس کا رزق چھین لے گا، اس کی معیشت کو بگاڑ دے گا اور اسے اس کے اپنے نفس کے سپرد کر دے گا؛ اور جس نے کسی مسلمان کو نقصان پہنچایا، وہ ہم میں سے نہیں اور میں دنیا و آخرت میں اس سے بری ہوں؛ اور جس نے قدرت کے باوجود قرض خواہ کو ٹالا، اس پر عشار کے گناہ جیسا وبال ہے۔“ سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: عشار کا گناہ کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”عشار کا گناہ یہ ہے کہ اس پر ہر دن اللہ تعالیٰ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہوتی ہے، اور جسے اللہ اپنی رحمت سے دور کر دے، تم اس کے لیے ہرگز کوئی مددگار نہ پاؤ گے۔“ وضاحت: یہ حدیث موضوع ہے۔